Bhutto’s Murder of Education

From Sadruddin Hashwani’s “The Truth Prevails”

IMG_7244.JPG

IMG_7245.JPG

Advertisements

چائے کی پیالی – پلانے کی اور، دکھانے کی اور

بیگم کچھ عرصہ کے لئے میکے گئیں تو راقم الحروف کو پہلی بار احساس ہوا کہ چاۓ کی پیالی خودبخود نہیں دھُل جاتی- لیکن  ولی عہد اکثر و بیشتر باورچی خانے میں بقول اپنی والدہ کے “ہاتھ بٹانے کی بجاۓ کام بڑھاتا رہتا ہے ، برتن توڑ توڑ کے” تو حفظ ماتقدم کے تحت گھر میں ضرورت سے زیادہ چاۓ کی پیالیاں ہیں- راقم الحروف عادتاً سست واقع ہوئے ہیں- جیسے جیسے بیگم کا قیام طول پکڑتا گیا، ویسے ویسے بے دھلی چاۓ کی پیالیوں کا مینار جو کہ راقم الحروف “کچن سِنک” میں تعمیر کر رہے تھے اونچا ہوتا گیا – ایک وقت ایسا آیا کہ” پینے” کے ساری پیالیاں مستعمل ہو گئیں – ابھی بیگم کی واپسی میں کچھ دن باقی تھے- راقم الحروف کو خیال آیا کہ کیوں نہ “دِکھانے” والی پیالیاں بھی زیرِ استعمال لائی جائیں

 یہ دِکھانے والی پیالیاں کیا ہوتی ہیں؟

یہ برصغیر کی ثقافت کا اہم جزو ہیں – ہر دلہن اپنے جہیز میں ایک “ڈنر سیٹ” لاتی ہے جو اس کی والدہ کی طرف سے ہوتا ہے – متوسط طبقہ کی مائیں اکثر جاپانی برانڈ “نوری ٹاکے” کے ڈنرسیٹ دیتی ہیں- یہ برتن شاز و نادر ہی استعمال ہوتے ہیں ۔ نئی دلہنیں بلکہ وہ پرانی دلہنیں بھی جن کی بیٹیاں بھی اب دلہن بن کے جا چکی ہوں ان برتنوں کو صرف اپنی ماں کی آمد پر نکالتی ہیں-  اگر مہمان خانے کی الماری شیشے کی ہو اور اس میں جگہ بھی  ہو تو یہ اس میں سالوں زیرِ نمائش رہتے ہیں –  اسی لئے یہ  “دِکھانے” کے برتن کہلاۓ جاتے ہیں- یا پھر دوسری صورت میں جیسے کہ جس چھوٹے کرائے کے مکان میں ہمارا بچپن  اور لڑکپن گزرا کہ مہمان خانے میں صوفے ہی بڑی مشکل سے سمائے  تو جس ڈبہ پیک میں اسے ہماری والدہ  اپنے جہیز میں لائیں تھیں، کئی دہائیاں اسٹور میں اسی ڈبے میں پڑے رہے

ہمارے ایک دوست کے بقول  ان کی مرحوم والدہ اللہ انھیں جنت نصیب کرے عید کی عید اس ڈنرسیٹ  کو نکالتی ہیں ، صاف کرتی ہیں اور پھر واپس ڈبے میں ڈال دیتی ہیں ۔ ہمارے اس دوست کی شادی عید کے چند روز بعد ہونی تھی- چاند رات کو جب ان کی والدہ سالانہ جہیز ڈنر سیٹ صفائی میں مصروف تھیں تو ہمارے دوست سے رہا نہ گیا اور انھوں نے اپنی والدہ ماجدہ سے کہہ دیا کہ ” اب نیا سامان آنے والا ہے آپ یہ پرانے زمانے کے برتن کو پھینک کیوں نہیں دیتیں یا پھر کسی کو دیدیں”- اللہ مبالغہ آرِائی سے بچائے لیکن بقول ہمارے دوست کے ان کی والدہ نے گال پیٹے، سینہ کوبی کی اور رونا شروع کردیا کہ “ابھی بیوی آئی نہیں تو میری ماں کے دئیے ہوئے برتن پھنکوا رہا ہے کہ پرانے ہوگئے ہیں، جب بیوی آجائے گی تو ماں باپ کو بھی گھر سے باہر نکال پھینکے گا کہ آثارِقدیمہ کی شخصیات ہیں ” – دوست کے والد صاحب جو ساتھ والے کمرے میں خبریں دیکھ رہے تھے کہ” ہر سال کی طرح اس سال بھی کمر توڑ مہنگائی نے عوام کی خوشیوں کو ماند کردیا ہے کہ چاند رات میں جوق در جوق بازاروں کا رخ کر رہے ہیں”  بھاگے بھاگے آئے اور دوست کی والدہ کو سنبھالا-

اس قصہ کو یاد کرتے ہی راقم الحروف کافی دیر مخمصے کا شکار رہے کہ آیا دکھانے والی چائے کی پیالیوں کو ان کی آرامگاہ یعنی مہمان خانہ کی نمائشگاہ میں سے ہلایا جائے یا نہیں-  سابق صدر زرداری نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ “ہر شریف آدمی کی طرح میں بھی اپنی بیوی سے ڈرتا ہوں” – راقم الحروف توٹھرے ہی شریف- سر پہ کفن باندھا ، کمر کس لی ایپرن سے ، جھاواں پکڑا ہاتھ میں ، میکس صابن کی ڈبیہ کھولی اور پھر اس فلک بوس مینارِ پیالیاں کو ایک ایک پیالی کرکے زمیں بوس کرد یا